سروگیسی اور اسلامی عائلی قانون: نسب، وراثت اور حضانت کا فقہی و مقاصدی تجزیہ

Authors

  • Attiq Ur Rehman Lecturer Islamic studies Qurtuba University.D.i.khan Author
  • Muhammad Najam Ul Arifin Lecturer Islamic studies Daraban college D.i.khan Author
  • Dr Fazal Illahi Khan Professor Department of Islamic studies Qurtuba University D.i.khan Author

DOI:

https://doi.org/10.63878/qrjs1274

Abstract

معاون تولیدی ٹیکنالوجی (Assisted Reproductive Technology) نے بانجھ پن کے علاج میں نمایاں پیش رفت کی ہے، جن میں سروگیسی (Surrogacy) ایک اہم مگر متنازع طریقہ ہے۔ اس کے نتیجے میں اسلامی عائلی قانون کے بنیادی تصورات، خصوصاً نسب، وراثت اور حضانت، نئے فقہی سوالات کی صورت میں سامنے آئے ہیں۔ اس تحقیق کا مقصد اسلامی مصادرِ شریعت، کلاسیکی فقہی ذخیرے اور معاصر فقہی اکیڈمیوں کی قراردادوں کی روشنی میں سروگیسی کے شرعی اثرات کا تجزیہ کرنا ہے۔ تحقیق سے واضح ہوتا ہے کہ اسلامی شریعت نسب کے تحفظ کو بنیادی مقصد قرار دیتی ہے، جبکہ سروگیسی متعدد صورتوں میں نسب کے اختلاط، وراثتی حقوق کے تعین اور حضانت کے تنازعات کا سبب بنتی ہے۔ معاصر فقہی اداروں کی اکثریت بھی ان خدشات کی بنیاد پر سروگیسی کو ناجائز قرار دیتی ہے۔ آرٹیکل اس نتیجے پر پہنچتا ہے کہ جدید طبی سہولیات سے استفادہ کرتے ہوئے بھی ایسے ذرائع اختیار کیے جائیں جو نکاح، نسب اور خاندانی نظام کے شرعی اصولوں سے ہم آہنگ ہوں۔

Downloads

Download data is not yet available.

Downloads

Published

2026-03-22

How to Cite

سروگیسی اور اسلامی عائلی قانون: نسب، وراثت اور حضانت کا فقہی و مقاصدی تجزیہ. (2026). Qualitative Research Journal for Social Studies, 3(1), 278-286. https://doi.org/10.63878/qrjs1274