سروگیسی اور اسلامی عائلی قانون: نسب، وراثت اور حضانت کا فقہی و مقاصدی تجزیہ
DOI:
https://doi.org/10.63878/qrjs1274Abstract
معاون تولیدی ٹیکنالوجی (Assisted Reproductive Technology) نے بانجھ پن کے علاج میں نمایاں پیش رفت کی ہے، جن میں سروگیسی (Surrogacy) ایک اہم مگر متنازع طریقہ ہے۔ اس کے نتیجے میں اسلامی عائلی قانون کے بنیادی تصورات، خصوصاً نسب، وراثت اور حضانت، نئے فقہی سوالات کی صورت میں سامنے آئے ہیں۔ اس تحقیق کا مقصد اسلامی مصادرِ شریعت، کلاسیکی فقہی ذخیرے اور معاصر فقہی اکیڈمیوں کی قراردادوں کی روشنی میں سروگیسی کے شرعی اثرات کا تجزیہ کرنا ہے۔ تحقیق سے واضح ہوتا ہے کہ اسلامی شریعت نسب کے تحفظ کو بنیادی مقصد قرار دیتی ہے، جبکہ سروگیسی متعدد صورتوں میں نسب کے اختلاط، وراثتی حقوق کے تعین اور حضانت کے تنازعات کا سبب بنتی ہے۔ معاصر فقہی اداروں کی اکثریت بھی ان خدشات کی بنیاد پر سروگیسی کو ناجائز قرار دیتی ہے۔ آرٹیکل اس نتیجے پر پہنچتا ہے کہ جدید طبی سہولیات سے استفادہ کرتے ہوئے بھی ایسے ذرائع اختیار کیے جائیں جو نکاح، نسب اور خاندانی نظام کے شرعی اصولوں سے ہم آہنگ ہوں۔

